خبردار !اگر یہ کام کیا تو چھ ماہ قید اورجرمانےکےلیےتیار رہیں

دُبئی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ اخلاقیات اور سماجی اقدار کے خلاف کسی بھی قسم کی گفتگو یا حرکت کرتے پائے تو انہیں قانونی کارروائی کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ سینئر لیگل کنسلٹنٹ کریم ہشام کا کہنا ہے کہ اگرکوئی شخص کسی عوامی مقام یا سوشل میڈیا پر کسی کی توہین کرتا ہے یا کوئی نازیبا حرکت کرتا ہے تو وہ خود کو بڑی مشکل میں گرفتار کرلے گا۔ اماراتی قانون کے مطابق عوامی مقام پر کسی کی ہاتھ کے اشارے یا نامناسب فقرات کے ذریعے توہین کرتا ہے یا کوئی بے شرمی والی حرکت کرتا ہے تو یہ ایک قابل سزا جُرم ہے جس پر کم ازکم چھ ماہ قید اورجرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔
کریم نے خبردار کیا کہ امارات میں مردوں کے لیے خواتین کا لباس پہننے کی ممانعت ہے۔ اگر کوئی شخص ایسی حرکت کرتا ہے تو وہ قانونی کارروائی بھُگتنے کے لیے تیار رہے ۔ کچھ منفی ذہنیت کے حامل مرد عورتوں کے لیے مخصوص مقامات پر داخل ہونے کے لیے نسوانی روپ دھار لیتے ہیں۔ ان کا یہ ایڈونچرایک شرمناک حرکت تصور کیا جائے گا۔ اماراتی قانون کے مطابق اگر کوئی مرد خود کو خاتون ظاہر کر کے کسی لیڈیز سیلون یا خواتین کے لیے مخصوص مرکز میں داخل ہوتا ہے تو اسے بھی ایک سال قید یا 10 ہزار درہم جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ بعض صورتوں میں یہ دونوں سزائیں ایک ساتھ بھی ہو سکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں