سفاک اسرائیل نے ظلم کی تمام حدیں پار کردیں

تفصیلات کے مطابق ظالم اسرائیل کی سفاکیت کم نہ ہوسکی۔ مظلوم فلسطینیوں پر دہشتگردانہ حملوں میں تیزی آگئی۔ جس کے نتیجہ میں شہداء کی تعداد 200 سے تجاوز کرچکی ہے۔ جن میں 34 خواتین اور 58 بچے بھی شامل ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ فضائی حملوں کے نتیجہ میں 5 مظلوم فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اب تک مظلوم فلسطینیوں پر کم از کم 70 فضائی حملے کیے جاچکے ہیں۔ جن میں شہری آبادی کو براہ راست نشانہ بنایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ سال 2014ء میں کیے جانے والے حملوں کے بعد ان حملوں کو شدید ترین قرار دیا جارہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق تازہ فضائی حملے میں غزہ کی چار منزلہ رہائشی عمارت پر بمباری کی گئی۔ جس کی وجہ سے عمارت زمیں بوس ہوگئی۔ جس کے ملبے سے لاشیں نکالنے کے دوران دل دہلا دینے والے مناظر سامنے آئے۔ اس سے قبل گزشتہ روز بھی ایک رہائشی عمارت پر حملہ کیا گیا تھا۔ جس کے ملبے سے 24 گھنٹے بعد معجزاتی طور پر ایک بچی کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ اس حملے میں 42 افراد کے شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ دہشتگرد اسرائیل اور مظلوم فلسطینیوں کے مابین 10 مئی کے بعد سے کشیدگی شدت اختیار کرچکی ہے۔ جس کے نتیجہ میں اب تک ہزاروں افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں کے دوران تازہ جھڑپوں کا آغاز تب ہوا تھا جب اسرائیل کی جانب سے مشرقی بیت المقدس میں بسنے والے کچھ فلسطینی خاندانوں کو یہودی آبادکاروں کی جانب سے بےدخل کرنے کی کوشش کی گئی۔
او آئی سی کے تازہ اجلاس میں تنظیم ممالک کے وزرائے خارجہ کی جانب سے اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں قرار داد منظور کی گئی ہے۔ یہ اجلاس سعودی عرب کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ تاہم 57 اسلامی ممالک کی نمائندہ تنظیم نے صرف روایتی قرارداد پاس کرنے پر ہی اکتفا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں